Attitude poetry in urdu

Attitude Urdu poetry is a mirror for the soul that refuses to bend. It’s a symphony of self-respect, each word a testament to one’s unyielding spirit. This is the language of those who have faced betrayal and emerged with silent strength, their scars transformed into crowns of resilience. Whether it’s the defiant roar of a boy’s self-assured verse or the quiet fire in a girl’s empowering couplet, this attitude shayari captures the essence of a personality that is both fearless and authentic. It’s a style that goes beyond mere words, offering a voice to the inner power that fuels our every step. This attitude shayari doesn’t just express emotions; it celebrates the journey of a fighter, turning personal pride into a poetic art form. It’s the perfect line for a social media status, a powerful statement that resonates with anyone who chooses to walk their own path. In this world of bold expressions, every line is a reminder that confidence is the most beautiful adornment, a core principle of attitude shayari. With each verse, this attitude shayari brings to life a fearless thought, giving a voice to your inner power through expressive Urdu words.

نہیں تھا اپنا مزاج ایسا کہ ظرف کھو کر انا بچاتے
ورنہ ایسے جواب دیتے کہ پھر نہ پیدا سوال ہوتے
اسے مبارک مقام اونچا صحیح حقیقت ہمیں پتہ ہے
بناتے رشتوں کی ہم بھی سیڑھی تو آسمان کی مثال ہوتے

مجھ پہ کسنے لگے ہو آوازیں
اتنی اوقات ہو گئی ہے کیا

کچھ دیر کی خاموشی ہے… پھر شور آئےگا
تمہارا صرف وقت آیا ہے… ہمارا دور آئے گا

‏تیرے غرور کے معیار سے بہت بلند ہوں میں
تیری پسند کا کیا ذکر ،خود کوبہت پسند ہوں میں

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے ، زمانے سےہم نہیں

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم

ہر ایک فرد سے سنو گے تم داستاں ہماری
ہم وہ ہیں جو ہر محفل میں دہرائے جائیں گے

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

انقلاب ایک خواب ہے سو ہے
دل کی دنیا خراب ہے سو ہے

ہم ایسے جائیں گے لے کر بلائیں دنیا کی
کہیں نہ ہوگا کوئی حادثہ ہمارے بعد

صرف ان کے لیے عام رہتا ہوں
جو میرے لیے خاص ہیں

جو کھوٹے سکے چلتے نہیں بازار میں
وہ خامیاں نکال رہے ہیں ہمارے کردار میں

نہ پیشی ہو گی نہ گواہ ہوگا
اب جو بھی الجھے گا تباہ ہوگا

کچھ تم کو بھی عزیز ہیں
اپنے سبھی اصول کچھ ہم بھی
اتفاق سے ضد کے مریض ہیں

سب کے مطابق ہو جاؤں؟
مطلب میں بھی منافق ہو جاؤں

میں وہ آگ ہوں جو ہر سانس میں جلتی ہے
مجھے بجھانے چلا تھا، خود راکھ بن گیا۔

خود پہ بھروسہ ہے تبھی تو اکیلا چلتا ہوں،
لوگ سہارے ڈھونڈتے ہیں، میں سہارا بنتا ہوں۔

دنیا کے لیے چھوٹی سی بات ہوں میں،
مگر اپنوں کے لیے پوری کائنات ہوں میں۔

ہماری آنکھیں اگر شعر سُنانے لگ جائیں
تُم جو غزلیں لئے پھرتے ہو ٹھکانے لگ جائیں

جن میں اکیلے چلنے کا حوصلہ ہو
ایک دن ان کے پیچھے قافلے چلتے ہیں

اتنا سوچا نہ کیجئے مجھ کو
آپ کا مسئلہ نہیں ہوں میں

لوگوں سے ملتے وقت اتنا مت جھکو
کہ اٹھتے وقت سہارا لے کر اٹھنا پڑے

ضد پہ آؤں تو سانسیں بھی ٹھکرا دوں
تو میری جان کس گمان میں ہے

عزت کی خاک قبول ہے
بھیک کا آسمان بھی نہ لوں میں

ہمارے # قد کے برابر نہ آسکے جو لوگ _ 😎
ہمارے پاؤں کے نیچے کُھدائی کرنے لگ

جتنی تالیاں تمہارے جیتنے پر بجتی ہیں
اتنی تالیاں تو ہماری انِٹری پر بجتی ہیں

دنیا کے لیے چھوٹی سی بات ہوں میں،
مگر اپنوں کے لیے پوری کائنات ہوں میں

کچھ تو معلوم ہو آخر تیرا معیار کیا ہے
مجھ سے ہر شخص یہاں تیرے سِوا راضی ہے

Similar Posts

प्रातिक्रिया दे

आपका ईमेल पता प्रकाशित नहीं किया जाएगा. आवश्यक फ़ील्ड चिह्नित हैं *